MOJ E SUKHAN

یہ کائنات ہے کیا ، دشت کیا ، مکاں کیا ہے

یہ کائنات ہے کیا ، دشت کیا ، مکاں کیا ہے
بس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہے

خدا نے دیکھ کے تابِ تجسسِ انساں
نظر پہ حد سی لگا دی ہے آسماں کیا ہے

گلا کے چھوڑے گا ہر شئے کو وقت کا تیزاب
سوائے نورِ خدا اور جاوداں کیا ہے

بس ایک غیب کی تلوار یہ خدائی ہے
پھر اس کے سامنے فریاد کیا ، فغاں کیا ہے

غمِ جہاں کا فسانہ بہت طویل ہے دوست
ہماری ایک شبِ غم کی داستاں کیا ہے

بچا ہی کیا ہے تیرے پاس ، بِک گیا سب کچھ
بڑھا لے رازؔ اب خالی ہے یہ دکاں کیا ہے

رازداں راز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم