MOJ E SUKHAN

کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا

غزل

کوئی کچھ بتائے گا کیا ہو گیا
یہاں کیسے ہر بت خدا ہو گیا

تذبذب کا عالم رہا دیر تک
بالآخر میں اس سے جدا ہو گیا

اسے کیا مجھے بھی نہیں تھی خبر
کہ میں قید سے کب رہا ہو گیا

زمیں پیاس سے اتنی بے حال تھی
سمندر نے دیکھا گھٹا ہو گیا

یہ دنیا ادھوری سی لگنے لگی
اچانک مجھے جانے کیا ہو گیا

شراب ہم نے یکساں ہی پی تھی مگر
تجھے اس قدر کیوں نشہ ہو گیا

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم