MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کا

غزل

اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کا
آئینہ تو آج بھی ہے کہکشانی رنگ کا

ہجر کے بادل چھٹے تو وصل کی تقویم میں
دل ہویدا ہو رہا ہے گلستانی رنگ کا

پیرہن اس کا ہے ایسا یا جھلکتا ہے بدن
اک پری وش رقص میں ہے ارغوانی رنگ کا

آج کی شب خاص ہوگی جب سناؤں گا اسے
ایک قصہ اپنا ذاتی داستانی رنگ کا

دوستوں کی مہربانی سے ہوا یہ کام بھی
میں نے دیکھا ہی نہیں تھا خون پانی رنگ کا

گر دلوں سے یوں دھواں اٹھتا رہے گا رات دن
آسماں کیسے بچے گا آسمانی رنگ کا

ہاں اسی نے پھول ٹانکے ہوں گے ان اشجار پر
جس نے مٹی کو دیا ہے جبہ دھانی رنگ کا

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم