MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھا

غزل

اپنے بعد حقیقت یا افسانہ چھوڑا تھا
پھول کھلے تھے میں نے جب ویرانہ چھوڑا تھا

سانس گھٹی جاتی تھی کیسا حبس کا عالم تھا
یاد ہے جس دن سبزے نے لہرانا چھوڑا تھا

آنسو گرے تو خاک بدن سے خوشبو پھوٹی تھی
مینہ برسا تو موسم نے گرمانا چھوڑا تھا

میرے علاوہ کس کو خبر ہے لیکن میں چپ ہوں
ساحل سے کیوں موجوں نے ٹکرانا چھوڑا تھا

میں پہلے بے باک ہوا تھا جوش محبت میں
میری طرح پھر اس نے بھی شرمانا چھوڑا تھا

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم