MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کس ہتھیلی پہ پاپوش سینچے گئے کس کہانی کو بے نام رکھا گیا

غزل

کس ہتھیلی پہ پاپوش سینچے گئے کس کہانی کو بے نام رکھا گیا
زانوئے دل پہ کل شب بڑی بھیڑ تھی جس کے برتے پہ انجام رکھا گیا

ہم شروع محبت سے نادار تھے اپنی آنکھوں سے ہونٹوں سے بیزار تھے
ہم سے کیا پوچھتے ہو لہو کی کھنک جس کے ریشوں میں ابہام رکھا گیا

انتہاؤں میں تجھ سے الگ ہو گئے ابتداؤں سے ہی سہل انداز تھے
عمر کے ریگ زاروں سے گزرے نہیں اور شانوں پہ الزام رکھا گیا

رونقوں میں تماشا بنے رات دن خلوتی تھے صدا خلوتی ہی رہے
مشک کی ناند کولھے پہ دیکھی گئی اور پہلو میں الہام رکھا گیا

ایسی بے وقعتی سے تراشا گیا اپنے ہونے پہ نادم رہے عمر بھر
خشک مٹی کے ڈھیلوں کو یکجا کیا آندھیوں کے تلے نام رکھا گیا

رس بھری کہنیوں کو نچوڑا گیا شہر کے چوک میں لا کے چھوڑا گیا
جسم کے ڈھیلے تاروں کو کستے رہے اور بھیتر میں کہرام رکھا گیا

گولیوں سے ادھڑتے رہے نام بھی بام و در کی حکایت ادھوری رہی
بام و در کی حکایت کہ جس کے عوض بخت میں دانہ و دام رکھا گیا

جام میں تند پانی بھرا دیکھیے اب چراغوں کی لو کو مرا دیکھیے
سرخ قالین اور اس پہ بچھتی غزل جس کے زانو پہ احرام رکھا گیا

عامر سہیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم