MOJ E SUKHAN

شاخ سے ٹوٹ کے پتے جو بکھر جاتےہیں

شاخ سے ٹوٹ کے پتے جو بکھر جاتےہیں
کون جانے کہ وہ پھر أڑ کے کدھر جاتے

یہ نہیں دیکھتا وہ روز کدھر جاتےہیں
سایہ بن جاتاہوں أن کا وہ جدھر جاتے ہیں

ہم کہ بے راہ روی میں یونہی چلتے چلتے
صاف ہوجاتی ہے جب گردِ سفر جاتے ہیں

میکدے ہی میں تو شب اپنی گزر جاتی ہے
صبح کا تارا نظر آٸے تو گھر جاتے ہیں

کھیلتے کھیلتے جزبات سے میرے اکثر
وہ تو اقرارِ محبت سے مکر جاتے ہیں

اپنے کردار پہ ہم جب بھی نظر ڈالتے ہیں
آٸینہ دیکھ کے ہم خود سے ہی ڈر جاتے ہیں

اپنے اسلاف کو پاکیزہ رکھا ہےہم نے
اپنے کردار کو ہم لےکےجدھر جاتے ہیں

سامنے أن کو بٹھا کہ جو غزل لکھتا ہوں
میرے اشعار کے الفاظ نکھر جاتے ہیں

آپ تو آپ ہیں کیا آپ سے کہتے نیّر
ہم تو بس ہم ہیں جو اظہارسے ڈر جاتے ہیں

نیر صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم