MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر جہالت کوٹھڑی میں شمع دانش نور عین

ہر جہالت کوٹھڑی میں شمع دانش نور عین
بلے بلے لالہ مصری خان تیری لالٹین

پھول حسن زندگی ہے پھول رنگ کائنات
تو جہاں بھی جائے پرسیں پھول تیرے ساتھ ساتھ

تیری بانہوں پر بھی پھولوں کے ہمیں گجرے قبول
بات تو جب ہے اگیں مزدور کی کٹیا میں پھول

ہو "کلہاڑا” یا درانتی تیر یا تلوار ہو
اسلحہ سب اپنی آزادی کا پہرہ دار ہو

اپنے سجدوں کے لیے اپنی زمیں پر ہی رہو
بیٹھ کر گھوڑے کی زیں پر بھی زمیں پر ہی رہو

"آٹھویں ترمیم” ہے سر پر ہتھوڑے کی طرح
اے معزز شخص بک جانا نہ گھوڑے کی طرے

"سائیکل” رفتار میں گھوڑا نہ ہو موٹر نہ ہو
ملت بیضا کا ٹائر دیکھنا پنکچر نہ ہو

فیل کے معنی کہ اونچا ہو مگر بھاری نہ ہو
بیل بھی اچھا اگر وہ "سانڈ سرکاری” نہ ہو

تو نمائندہ ہے اس ایوان با توقیر کا
فیصلہ کرنا ہے جس کو ملک کی تقدیر کا

سید ضمیر جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم