گر عزم نہیں دوستو پُر خار ہیں رستے
ہمت اگر ہے وادٸی گلزار ہیں رستے
جس سمت نظر جاٸے ہیں خاموش کھڑے ہیں
میری ہی طرح آج یہ بیمار ہیں رستے
نفرت کے شراروں نے جہاں رقص کیا تھا
وہ آج محبت کے طلبگار ہیں رستے
گلپوش بداماں وہ جدھر سے بھی گٸے ہیں
سنتا ہوں کہ وہ اب بھی مہکبار ہیں رستے
کیا جانِ چمن سیرِ چمن کو نہیں چلنا
سب کب سے تیرے طالبِ دیدار ہیں رستے
راہوں میں پڑے ہیں تیری سب آنکھیں بچھاٸے
میری ہی طرح مونس و غم خوار ہیں رستے
نیّر ہے خبر مجھ کو میری راہِ وفا میں
ہر پیچ پہ پُر خار دشوار ہیں رستے
نیر صدیقی