MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی بہاروں  کے  مو سموں میں جو دل کی بستی غزل سرا تھی

کبھی بہاروں  کے  مو سموں میں جو دل کی بستی غزل سرا تھی
وہیں کہیں ایک آرزو  کے  مچلنے کی بھی بڑی کتھا  تھی

جلا کے جب ساری کشتیاں میں سمندروں کے سفر پہ نکلی
اسی گھڑی تو جبینِ شب پر لکھی گئی جو مری دعا تھی

بنا سہاروں کے زیست مشکل گزار آئی تو پھر یہ جانا
کہ میں ہی اپنے حسیں چمن کی زمین نم تھی، شجر گھنا تھی

وراثتوں کی کتاب کھولی تو نام میرا کہیں نہیں تھا
میں چپ تھی سوچا کہ اس میں شاید مرے قبیلے کی بھی رضا تھی

جلے گا دل تو دھواں اٹھے گا، یہ آگ ایسے نہیں بجھے گی
نگر نگر یہ خبر پہنچتی ، مگر ہوا کی عجب دشا تھی

بہت پکارا تھا منزلوں نے حنا مجھے ان ہی راستوں سے
مگر مسلسل سفر تھا میرا،  کہیں نہ رکنے میں ہی بقا تھی

ڈاکٹر حنا امبرین طارق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم