عجب محشر سا دل میں آج برپا ہو گیا ہے
خموشی گونجتی ہے، شور اتنا ہو گیا ہے
ہمارا رابطہ اب منقطع ہے ہر کسی سے
زمانہ آشنا جب سے تمہارا ہو گیا ہے
یہاں پر روشنی تھی قہقہے تھے زندگی تھی
مرا یہ شہر اب سنسان سارا ہو گیا ہے
مرا پچپن ہے اب بھی جاگتا خوابوں میں میرے
الگ یہ بات وہ سپنا پرانا ہو گیا ہے
سنا تم نے، کہیں سے آہ سی اٹھی ہے کوئی
سنا ہے قتل اک بیوہ کا لڑکا ہو گیا ہے
کئی موسم گزارے ہم نے تم نے ساتھ مل کر
مگر اب ایک موسم ہر طرف کا ہو گیا ہے
بہت دن تک چھپایا راز دل لیکن حنا اب
زبان ِ خلق پر اس کا بھی چرچا ہوگیا ہے
ڈاکٹر حنا امبرین طارق