MOJ E SUKHAN

سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو

غزل

سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھو
مری انائے خفی کو سوال ہی سمجھو

وہ روبرو ہیں مرے دل مگر یہ کہتا ہے
خیال حسن کو حسن خیال ہی سمجھو

رفاقتوں کے قرینے بدلتے رہتے ہیں
سو کرب‌ ہجر کو لطف وصال ہی سمجھو

تڑپ رہے ہیں جو یوں ہم صدائے ساز کے ساتھ
اسے کچھ اور نہیں وجد و حال ہی سمجھو

مرے ہنر کو رہا بزم کم نظر سے گریز
اسے بھی میرے ہنر کا کمال ہی سمجھو

ہوائے صبح چمن اور ایک بار اگر
گزر گئی تو ہمیں پائمال ہی سمجھو

دلوں کے زخم چھپے ہیں لہو کی چادر میں
تمہیں غرض نہیں تم اندمال ہی سمجھو

حصول کیف کو میخانۂ حیات میں لیثؔ
شکست جام سے پہلے محال ہی سمجھو

لیث قریشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم