MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں

غزل

وعدہ کیا کسی بات کے پابند نہیں ہیں
بوڑھے ہیں نا جذبات کے پابند نہیں ہیں

خوابوں میں نکل جاتے ہیں ارمان ہمارے
ہم دن میں ملاقات کے پابند نہیں ہیں

بے وجہ بھی آنکھوں میں امڈ آتے ہیں اکثر
سیلاب جو برسات کے پابند نہیں ہیں

حالات کی گردش رہی پابند ہماری
ہم گردش حالات کے پابند نہیں ہیں

جب وقت کے پابند نہیں آپ تو ہم بھی
پابندئ اوقات کے پابند نہیں ہیں

ہم رند خرابات ہیں جو چاہے پئیں گے
ساقی کی ہدایات کے پابند نہیں ہیں

زنجیر لئے پاؤں میں پھرتے ہیں سر راہ
دیوانے حوالات کے پابند نہیں ہیں

حاکم نے کہا ہے کہ وہی حکم کو ٹالیں
جو مرگ مفاجات کے پابند نہیں ہیں

مفہوم شب وصل کا سمجھایا تو بولے
ہم ایسی کسی رات کے پابند نہیں ہیں

یہ دور ترقی کا ہے ہم شرم و حیا کی
فرسودہ روایات کے پابند نہیں ہیں

ہم ؔخواہ مخواہ پابند ہیں آتے ہوئے پل کے
گزرے ہوئے لمحات کے پابند نہیں ہیں

غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم