MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہیں اڑاؤں گا خاک رویا نہیں کروں گا

نہیں اڑاؤں گا خاک رویا نہیں کروں گا
کروں گا میں عشق پر تماشا نہیں کروں گا

مری محبت بھی خاص ہے کیونکہ خاص ہوں میں
سو عام لوگوں میں ذکر اس کا نہیں کروں گا

اسے بتاؤ فرار کا نام تو نہیں عشق
جو کہہ رہا ہے میں کار دنیا نہیں کروں گا

کبھی نہ سوچا تھا گفتگو بھی کروں گا گھنٹوں
اور اپنی باتوں میں ذکر تیرا نہیں کروں گا

ارادتاً جو کیا ہے اب تک غلط کیا ہے
سو اب کوئی کام بالارادہ نہیں کروں گا

تجھے میں اپنا نہیں سمجھتا اسی لیے تو
زمانے تجھ سے میں کوئی شکوہ نہیں کروں گا

مری توجہ فقط مرے کام پر رہے گی
میں خود کو ثابت کروں گا دعویٰ نہیں کروں گا

اگر میں ہارا تو مان لوں گا شکست اپنی
تری طرح سے کوئی بہانہ نہیں کروں گا

اگر کسی مصلحت میں پیچھے ہٹا ہوں تیمورؔ
تو مت سمجھنا کہ اب میں حملہ نہیں کروں گا

تیمور حسن تیمور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم