MOJ E SUKHAN

مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا

مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا
باتوں سے میرا دل نہ لبھا شہر کو بچا

میرے تحفظات حفاظت سے ہیں جڑے
میرے تحفظات مٹا شہر کو بچا

تو اس لیے ہے شہر کا حاکم کہ شہر ہے
اس کی بقا میں تیری بقا شہر کو بچا

تو جاگ جائے گا تو سبھی جاگ جائیں گے
اے شہریار جاگ ذرا شہر کو بچا

تو چاہتا ہے گھر ترا محفوظ ہو اگر
پھر صرف اپنا گھر نہ بچا شہر کو بچا

کوئی نہیں بچانے کو آگے بڑھا حضور
ہر اک نے دوسرے سے کہا شہر کو بچا

لگتا ہے لوگ اب نہ بچا پائیں گے اسے
اللہ مدد کو تو مری آ شہر کو بچا

تاریخ دان لکھے گا تیمورؔ یہ ضرور
اک شخص تھا جو کہتا رہا شہر کو بچا

تیمور حسن تیمور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم