MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا
یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا

نہ جانے کتنی غلط فہمیاں جنم لیتیں
میں اصل بات سے پہلو تہی اگر کرتا

میں سوچتا ہوں کہاں بات اس قدر بڑھتی
اگر میں تیرے رویے سے در گزر کرتا

مرا عدو تو تھا علم الکلام کا ماہر
مرے خلاف زمانے کو بول کر کرتا

اکیلے جنگ لڑی جیت لی تو سب نے کہا
پہنچتے ہم بھی اگر تو ہمیں خبر کرتا

مری بھی چھاؤں نہ ہوتی اگر تمہاری طرح
میں انحصار بزرگوں کے سائے پر کرتا

سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے
یہ آرزو تھی مرے ساتھ تو سفر کرتا

گئے دنوں میں یہ معمول تھا مرا تیمورؔ
زیادہ وقت میں اک خواب میں بسر کرتا

تیمور حسن تیمور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم