MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تیرے لبوں پہ حرف دعا کیوں نہیں ہوا

تیرے لبوں پہ حرف دعا کیوں نہیں ہوا
ہونا تھا جو اس وقت ادا کیوں نہیں ہوا

یوں تو غزل ہی روز نئی کہتا ہوں لیکن
پھر سوچتا ہوں شعر نیا کیوں نہیں ہوا

ہم کو کوئی گلہ نہیں اپنے نصیب سے
دل پوچھتا ہے جاں وہ ترا کیوں نہیں ہوا

تو نے رچائی تھی جو مری چاہ کی مہندی
پھر دل میں ترے رنگ حنا کیوں نہیں ہوا

وہ چاہتا ہے مجھ کو اگر ٹوٹ کر تو پھر
اس کے لبوں پہ حرف وفا کیوں نہیں ہوا

اس کو شکایتیں تھیں گر اپنے نصیب سے
مجھ سے گلے ملا تو گلہ کیوں نہیں ہوا

ملتے ہیں اور بچھڑتے ہیں دنیا میں کئی لوگ
شائق شہاب دل سے جدا کیوں نہیں ہوا

(سید شائق شہاب)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم