تیرے لبوں پہ حرف دعا کیوں نہیں ہوا
ہونا تھا جو اس وقت ادا کیوں نہیں ہوا
یوں تو غزل ہی روز نئی کہتا ہوں لیکن
پھر سوچتا ہوں شعر نیا کیوں نہیں ہوا
ہم کو کوئی گلہ نہیں اپنے نصیب سے
دل پوچھتا ہے جاں وہ ترا کیوں نہیں ہوا
تو نے رچائی تھی جو مری چاہ کی مہندی
پھر دل میں ترے رنگ حنا کیوں نہیں ہوا
وہ چاہتا ہے مجھ کو اگر ٹوٹ کر تو پھر
اس کے لبوں پہ حرف وفا کیوں نہیں ہوا
اس کو شکایتیں تھیں گر اپنے نصیب سے
مجھ سے گلے ملا تو گلہ کیوں نہیں ہوا
ملتے ہیں اور بچھڑتے ہیں دنیا میں کئی لوگ
شائق شہاب دل سے جدا کیوں نہیں ہوا
(سید شائق شہاب)