MOJ E SUKHAN

بیٹھے بیٹھے اب جہاں کی سیر کر آتے ہیں لوگ

بیٹھے بیٹھے اب جہاں کی سیر کر آتے ہیں لوگ
کیسی کیسی آجکل افواہیں پھیلاتے ہیں لوگ

کھول دو کھڑکی میاں تازہ ہوا کی خیر ہو
سانس رکتی ہے ہوا رکنے سے گھبراتے ہیں لوگ

آخرت میں اے خدا ان کو سہولت چاہٸے
زندگی بھر جو غریبی کی سزا پاتے ہیں لوگ

کون تھا وہ کون تھا اللہ ہی جانے کون تھا
آجکل بھولے ہوٸے بھی مجھ کو یاد آتے ہیں لوگ

کون کہتا ہے بڑے بوڑھے ہیں اچھے شہر کے
یہ براٸی کم ہے کیا ان میں کہ مر جاتے ہیں لوگ

پھول پتے اور پودے سوکھتے آٸے مگر
آجکل تو جب خزاں آتی ہے مرجھاتے ہیں لوگ

عرفان اللہ عرفان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم