MOJ E SUKHAN

باتوں میں اگرچہ نہیں تنظیم زیادہ

باتوں میں اگرچہ نہیں تنظیم زیادہ
میں کہہ کہ نہیں کرتا ہوں ترمیم زیادہ

وہ یوں کہ ترے نام میں یہ آیا ہے دو بار
حرفوں میں پسند آیا مجھے میم زیادہ

ملتا ہے مجھے فیض جو درگاہٍ ادب سے
یاروں میں ہی کر دیتا ہوں تقسیم زیادہ

میں اپنی کہی بات سے واقف تو ہوں لیکن
از بر ہیں زمانے کو مفاہیم زیادہ

تم سے کوٸی پوچھے کہ یہ لہجے میں تمہارے
اب شہد زیادہ ہے کہ ہے نیم زیادہ

عرفان اللہ عرفان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم