MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک وقت میں پھولوں کے بڑے ٹھاٹھ رہے ہیں

اک وقت میں پھولوں کے بڑے ٹھاٹھ رہے ہیں سوکھے تو ہواؤں کے تلے چاٹ رہے ہیں پچھتائیں گے اک روز کڑی دھوپ پڑی تو جو لوگ محبت کے شجر کاٹ رہے ہیں پیا سوں کو کھلے ملتے ہیں دروازے ہمارے ہم پچھلے جنم میں بھی کوئی گھاٹ رہے ہیں جس سمت بھی ہو جائیں

اک وقت میں پھولوں کے بڑے ٹھاٹھ رہے ہیں Read More »

جس کی خواہش تھی ضرورت سے زیادہ اوڑھے

جس کی خواہش تھی ضرورت سے زیادہ اوڑھے آج پھرتا ہے محبت کو وہ آدھا اوڑھے اس نے پہنے جو سبھی رنگ وہ خوش بخت ہوئے اس پہ جچتی ہے سیہ شال جو سادہ اوڑھے ہم کھلے دل سے ملے تنگ نظر لوگوں سے ہم نے پھر خواب بھی آنکھوں پہ کشادہ اوڑھے سارے جھوٹے

جس کی خواہش تھی ضرورت سے زیادہ اوڑھے Read More »

ظالم کو دوں دعائیں میں خوش ہوں رقیب سے

ظالم کو دوں دعائیں میں خوش ہوں رقیب سے ملتا ہے پیار پیسہ یہ عزت نصیب سے دل خوش کرے گا چاند پہ کیچڑ اچھال کر کچھ بن نہیں پڑے گا جو دشمن غریب سے شاید مری تلاش میں ھے کوئی سانحہ کچھ دن سے آ رھے ہیں جو سپنے عجیب سے ہم لوگ بے

ظالم کو دوں دعائیں میں خوش ہوں رقیب سے Read More »

ممکن ہے زندگی کوئی رستہ نکال دے

ممکن ہے زندگی کوئی رستہ نکال دے شاخوں پہ کوئی پھول ہی تازہ نکال دے جدت سے ہم کو اپنی قدامت بھلی حضور اخلاقیات کا جو جنازہ نکال دے ا ک دن نکال کوئی ملاقات کے لیے اس حبس میں سکون کا گوشہ نکال دے اب کاش کوئی پھر سے مجھے اعتماد دے دل سے

ممکن ہے زندگی کوئی رستہ نکال دے Read More »

خون میں اس قدر فشار رہا

خون میں اس قدر فشار رہا جب تلک سر پہ وہ سوار رہا کوئی چپکے سے آ گیا دل میں ہم کو دستک کا انتظار رہا چاندنی چار دن کی ہوتی ہے کس پہ جوبن سدا بہار رہا کتنے دن اس کی بے نیازی سے ایک سو تین پر بخار رہا حاصل اس کو بھی

خون میں اس قدر فشار رہا Read More »

یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں

یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں پاؤں صحرا کے سمندر سے ہی نم ہوتے ہیں سر پہ پھرتے ہیں کئی بوچھ اضافی لے کر |ہم سے لوگوں کو زمانے کے بھی غم ہوتے ہیں اب تو لوگوں کے رویوں کو سمجھنے کے لیے تجربے عمر ریاضت سبھی کم ہوتے ہیں تب

یوں ہی بے کار میں بارش کے بھرم ہوتے ہیں Read More »

سر خوشی اپنی جگہ دل یہ پریشان بھی تھا

سر خوشی اپنی جگہ دل یہ پریشان بھی تھا وصل لمحے تھے مگر ہجر کا امکان بھی تھا عشق کہتے ہیں جسے ہے تو تمنائے سراب پر یہ شوریدہ سروں کے لیے آسان بھی تھا ہائے وحشت! کہ ُاسی در پہ پھر اک بار ہوں میں ؔہائے وہ در جو مرے درد کا عنوان بھی

سر خوشی اپنی جگہ دل یہ پریشان بھی تھا Read More »

دروں میں کوئی نیا در تلاش کرتا ہوں

دروں میں کوئی نیا در تلاش کرتا ہوں میں گھر میں ہوتے ہوئے ،گھر تلاش کرتا ہوں فلک زمیں کے کناروں سے مل رہا ہے جہاں میں روز شام وہ منظر تلاش کرتا ہوں مری تلاش میں شامل یہ روشنی ہی نہیں میں تیرگی کا بھی مصدر تلاش کرتا ہوں قفس تو ٹوٹ چکا پھر

دروں میں کوئی نیا در تلاش کرتا ہوں Read More »

کب کہا میں نے کہ سورج کو اتارا جائے

کب کہا میں نے کہ سورج کو اتارا جائے بس اندھیرا یہ، مرے گھر سے خدارا جائے چھین کر راحتیں اور کرب کا عالم دے کر ہائے! دنیا سے مجھے یوں نہ گزارا جائے اس لیے لکھے نصیحت کی طرح وصل و فراق جان سے اب نہ کہیں کوئی بےچارہ جائے کرچکے ہو جہاں برباد

کب کہا میں نے کہ سورج کو اتارا جائے Read More »

پلا کے آنکھوں کو ، کیسی شراب ، گزرا ہے

پلا کے آنکھوں کو ، کیسی شراب ، گزرا ہے وہ دل رُبا جو ابھی، بے حجاب گزرا ہے ہوا رکی تھی جو کچھ دیر، احترام تھا وہ غزال تھا کوئی، وہ جو جناب گزرا ہے نہیں! نہیں ! یہ محبت ابھی نہیں ممکن ابھی ابھی تو ، یہ دورِ عتاب گزرا ہے خدارا! آہی

پلا کے آنکھوں کو ، کیسی شراب ، گزرا ہے Read More »