MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خوف طاری نہیں ہوتا کبھی شہبازوں پر

خوف طاری نہیں ہوتا کبھی شہبازوں پر
قدغنیں لاکھ لگاؤ مری پروازوں پر

اس نے اک بار پکارا نہ پلٹ کر دیکھا
ایک مدت میں لپکتی رہی آوازوں پر

عمر کٹتی ہے بھٹکتے ہو ئے پردیسوں میں
تختیاں نام کی رہ جاتی ہیں دروازوں پر

بدگماں وقت سے پہلے ہی میں کیونکر ہوتی
لوگ چھوڑے نہیں جاتے کبھی اندازوں پر

ہم وہ حساس طبیعت کہ ازالے کرتے
زندگی اپنی بسر کرتے ہیں خمیازوں پر

وہ ترے بعد بھلا سوچ جیئیں گے کیسے
وہ جو پلتے ہیں ترے لاڈ ترے نازوں پر

میں نے ہر بار حقیقت سے چرائی نظریں
میں نے ہر بار بھروسہ کیا ہمرازوں پر

جن کے الفاظ سے نفرت کی مہک آتی ہے
مجھ کو آتا ہے ترس ایسے سخن سازوں پر

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم