MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہے تجھے کیا معلوم

اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہے تجھے کیا معلوم
زندگی عکس بدلتی ہے تجھے کیا معلوم

دن تو سورج ہے کسی طرح سے ڈھل جاتا ہے
رات آنکھوں میں ٹھہرتی ہے تجھے کیا معلوم

میرے چہرے پے لکھے حرف تو پڑھ لیتا ہے
جو مرے دل پے گزرتی ہے تجھے کیا معلوم

یہ ترے نام سے منسوب بھی ہوسکتی ہے
سانس رہ رہ کے اٹکتی ہے تجھے کیا معلوم

تیری دھن ہے مری پازیب کی جھنکاروں میں
اب تو چوڑی بھی کھنکتی ہے تجھے کیا معلوم

تونے جاتے ہوئے جس شام کو چھوڑا تھا یہاں
وہ سرِ شام سنورتی ہے تجھے کیا معلوم

جانے کس سمت سے آجائے تری یاد قمر
زندگی راستہ تکتی ہے تجھے کیا معلوم

قمرسرور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم