MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اک دیا سا کفِ امید پہ دھر جاتے ہو

اک دیا سا کفِ امید پہ دھر جاتے ہو
خواب بن کر چلے آتے ہو گزر جاتے ہو

تم نے سمجھا ہی نہیں آنکھ میں ٹھہرے دکھ کو
تم بھی ہنستی ہوئی تصویر پہ مر جاتے ہو

تمہیں اندازہ نہیں آگ کے پھیلاؤ کا
روز جنگل کی طرف لے کے شرر جاتے ہو

چھاؤں دیتے ہو نہ فرصت سے برستے ہو کبھی
صرف بادل کی طرح سر سے گزر جاتے ہو

اس محبت کے میں آزار اٹھاؤں کیوں کر
جسکے اظہار سے ڈرتے ہو ، مکر جاتے ہو

دل کی تنہائی کا تم سے بھی مداوا نہ ہوا
اک نئے زخم سے اِس زخم کو بھر جاتے ہو

یونہی خوابوں کا محل ریت پہ تعمیر کیا
تم تو ساحل کی ہواؤں سے بھی ڈر جاتے ہو

فوزیہ شیخ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم