پھر بشارت نہ ملی مجھ کو کبھی پانی کی
بد دعا ایسی مجھے دوست نے دی پانی کی
پھر وہی دشتِ بلا ہے وہی خودداریِ دل
پھر وہی پیاس وہی مردہ دلی پانی کی
میں اسی زعم میں رہتا ہوں رواں اس کی طرف
بانج کردے نہ سمندر کو کمی پانی کی
میں کناروں سے اڑاتا رہا سورج کا مذاق
ناؤ ڈوبی تو حقیقت بھی کھلی پانی کی
لوگ ہاتھوں میں لیے کاسہِ سر دوڑے ہیں
اب کے اس شہر میں کیا رسم چلی پانی کی
کب تلک سر کو پٹخنے کی سزا بھگتوں گا
اب تو ساحل سے لگا سست روی پانی کی
کوئی ہنستا ہوا چہرہ نہ مکاں تھا نہ مکیں
جب مرے سامنے دیوار گری پانی کی
مجھ کو معلوم تھا ہے میرا بدن گارے کا
مجھ کو مقصود تھی بس بیخ کنی پانی کی
دھوپ ہے روح سے لپٹی ہوئی صحرا میں خلیل
ہائے کس وقت یہ جاگیر چھنی پانی کی
مشتاق خلیل