MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھر بشارت نہ ملی مجھ کو کبھی پانی کی

پھر بشارت نہ ملی مجھ کو کبھی پانی کی
بد دعا ایسی مجھے دوست نے دی پانی کی

پھر وہی دشتِ بلا ہے وہی خودداریِ دل
پھر وہی پیاس وہی مردہ دلی پانی کی

میں اسی زعم میں رہتا ہوں رواں اس کی طرف
بانج کردے نہ سمندر کو کمی پانی کی

میں کناروں سے اڑاتا رہا سورج کا مذاق
ناؤ ڈوبی تو حقیقت بھی کھلی پانی کی

لوگ ہاتھوں میں لیے کاسہِ سر دوڑے ہیں
اب کے اس شہر میں کیا رسم چلی پانی کی

کب تلک سر کو پٹخنے کی سزا بھگتوں گا
اب تو ساحل سے لگا سست روی پانی کی

کوئی ہنستا ہوا چہرہ نہ مکاں تھا نہ مکیں
جب مرے سامنے دیوار گری پانی کی

مجھ کو معلوم تھا ہے میرا بدن گارے کا
مجھ کو مقصود تھی بس بیخ کنی پانی کی

دھوپ ہے روح سے لپٹی ہوئی صحرا میں خلیل
ہائے کس وقت یہ جاگیر چھنی پانی کی

مشتاق خلیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم