میں جس کے واسطے آمادہ ء زوال رہا
اس ایک شخص کا ملنا مجھے محال رہا
جواب بن نہ سکا، جب بھی مجھ سے پوچھا گیا
وہ اک سوال تھا ، اور عمر بھر سوال رہا
بدلنے کب دیا ، مجھ کو بدلتے وقت کے ساتھ
یہ میرا آئینہ کب میرا ہم خیال رہا تھا
شکستہ حال بھی، اس پر ہوا مقابل تھی
چراغِ زیست کا جلنا بڑا کمال رہا
لباس نوچتے کانٹوں سے ہے گلہ، لیکن
گلوں سے واسطہ بھی ، باعثِ ملال رہا
تمہارے بعد تو سب لفظ چھن گئے مجھ سے
خموشیوں سے فقط رابطہ بحال رہا
وہ کون تھا جو میرے ساتھ تیرے بعد بھی تھا
میں خود سے پوچھتا اکثر یہی سوال رہا
چلا تو آیا ہوں ، ماضی سے اپنے حال پہ میں
تمام راستے کاشفؔ! بہت نڈھال رہا
کاشف علی ہاشمی