MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آنکھوں کی دہلیز پہ ٹھہرا دریا دینے والی تھی

آنکھوں کی دہلیز پہ ٹھہرا دریا دینے والی تھی
داسی تھی اور دان میں اپنا صدقہ دینے والی تھی

تم نے بڑھ کر روک لیا ہےمیرا رستہ ورنہ میں
تم پہ وار کے سچ مچ ساری دنیا دینے والی تھی

اس بھائ نے چھین کے بیچے میرے چند نوالے بھی
جس کو میں کھلیان سے اپنا حصہ دینے والی تھی

شکر کہ میں نے ایک صدا پر پیچھے مڑ کر دیکھ لیا
ایک سہیلی پشت سے ور نہ دھکا دینے والی تھی۔

ایمان قیصرانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم