MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رو پڑی ہوں کہ زخم گہرا تــــــھا

رو پڑی ہوں کہ زخم گہرا تــــــھا
ورنہ آنکھوں پہ سخت پہــرا تھا

میں تو سمجھی قبیلہ پیچھے ہے
مُڑ کے دیکھا تو صرف صحرا تھا

تیرے تحفےکی جوگھڑی تھی نا
اُس پہ فرقت کا وقت ٹھہرا تھا

میری چُنری کے رنگ پھیکے تھے
اُس کی آنکھوں کا رنگ گہرا تھا

جسکوپڑھنےپہ سخت پہرے تھے
سطر در سطر بس وہ چہرہ تھا

یاد ہے تم کو اُس جدائی کـــــی
شام گــــہری تھی دن سُنہرا تھا

کس طرح دل سے دل ملا پاتے ؟
عشق گونگا تھا ، حسن بہرہ تھا۔

ایمان قیصرانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم