MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ زخم ہیں کہ پھول ہیں یہ زہر ہیں کہ جام ہیں

یہ زخم ہیں کہ پھول ہیں یہ زہر ہیں کہ جام ہیں
مگر یہ میرے شعر اب فقط تمہارے نام ہیں

نہ تم سے ہو کہ مل سکو نہ مجھ سے ہو کہ وقت دوں
تمہیں بھی کتنے کام ہیں ، مجھے بھی کتنے کام ہیں

وہ مصلحت شناس تھا سو اس کا دوش کچھ نہیں
یہ شہر بھر کی تہمتیں ، مری وفا کے نام ہیں

میں اسکو یاد جب کروں،غزل کے دیپ جل اٹھیں
نثار اس خیال پر ، کہ لفظ بھی غلام ہیں

وہ بارشیں اگرچہ اب کسی کی ہو چکیں مگر
یہ میرے دل کے راستے ہنوز تشنہ کام ہیں

اے کم نظر نہ سرسری نظر سے دیکھ تو کہ ہم۔
سحر کا اجلا نور ہیں ،شفق میں لپٹی شام ہیں

اب ان سے کیا بغاوتیں،اب ان سے کیا عداوتیں
کہ وہ فقیہ ِ شہر ہیں ، وہ وقت کے امام ہیں

تو گوش بر صدا رہی ایمان جس کے ہجر میں
خوشا نصیب دیکھئے وہ تجھ سے ہم کلام ہیں

ایمان قیصرانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم