MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

فصلِ غمِ بہار کا سودا نہیں کیا

فصلِ غمِ بہار کا سودا نہیں کیااس چشمِ اشکبار کا سودا نہیں کیا مجنوں بنے تو چاک گریباں کیا قبولدامانِ تار تار کا سودا نہیں کیا رنگینیوں کے شہر میں آ کر بھی دوستوخوابوں کے ریگزار کا سودا نہیں کیا قدموں میں کیا سےکیا نہیں رکھاگیا مگرہم نے تمہارے پیار کا سودا نہیں کیا آنکھوں

فصلِ غمِ بہار کا سودا نہیں کیا Read More »

وقتِ اُفتاد کیوں نہیں آئى

وقتِ اُفتاد کیوں نہیں آئىلب پہ فریاد کیوں نہیں آئى میں ترےشہر سےبھی گزرا تھاپھر تری یاد کیوں نہیں آئى غير تو آۓ کاندھا دینے کواپنی اولاد کیوں نہیں آئى میرے پر کاٹتے ہوۓ تجھ کوموت صیّاد کیوں نہیں آئى دشتِ مجنوں تھادل،کوئى لیلیٰکرنے آباد کیوں نہیں آئى وہ توبیشک امین تھے،تجھ میںخوۓ اجداد کیوں

وقتِ اُفتاد کیوں نہیں آئى Read More »

رکھ دیا میں نے درِ حُسن پہ ہارا ہوا عشق

رکھ دیا میں نے درِ حُسن پہ ہارا ہوا عشقآج کے بعد مری جان تمھارا ہوا عشق چوٹ گہری تھی مگر پاؤں نہیں رک پاۓہم پلٹ آۓ وہیں ہم کو دوبارہ ہوا عشق جھلملاتا ہے مری آنکھ میں آنسو بن کرآ گیا راس مجھے دل میں اتارا ہوا عشق سکہء وقت بدلتے ہی سبھی چھوڑ

رکھ دیا میں نے درِ حُسن پہ ہارا ہوا عشق Read More »

اناؤں کا جو بلیدان کرنے والا ہے

اناؤں کا جو بلیدان کرنے والا ہےتمام شہر کو حیران کرنے والا ہے عجیب سی ہےہنسی آج اُسکےہونٹوں پرنہ جانے کیا مرا مہمان کرنے والا ہے خدا نے جس کو اُتارا کلامِ حق کہہ کروہ جانور کو بھی انسان کرنے والا ہے دلِ تباہ تری آہ نیم کش کا فسوںکسی حسیں کو پشیمان کرنے والا

اناؤں کا جو بلیدان کرنے والا ہے Read More »

بھانپ کر قتل کے ارادے کو

بھانپ کر قتل کے ارادے کوہم بچا لاۓ شاه زادے کو شہر میں معتبر بنا ہوا ہےوه پہن کر مرے لبادے کو بات نکلی تھی غمگساری کیآ گئے لوگ استفادے کو آنکھ چھلکی نہیں مری جب سےتھام رکھا ہے ایک وعدے کو بچ نکلتا ہے شہ سوار سدامات ہوتی ہے بس پیادے کو ہم نے

بھانپ کر قتل کے ارادے کو Read More »

یوں نہ گھیراؤ اور جلاؤ پر

یوں نہ گھیراؤ اور جلاؤ پرآنکھ رکھو زمیں کے گھاؤ پر اک نظر رختِ جاں پہ ہے میریاک نظر وقت کے بہاٶ پر کتنا انمول تھا ضمیر کہ ابآ گیا کوڑیوں کے بھاؤ پر اس نے آنکھوں میں آگ سُلگائیہم نے دل رکھ دیا الاؤ پر کھیل سمجھا تھا عشق کو لیکنزندگی لگ گئی ہے

یوں نہ گھیراؤ اور جلاؤ پر Read More »

یہ ویراں شہر میرا کس لیے ہے

یہ ویراں شہر میرا کس لیے ہےلگاۓ خوف ڈیرا کس لیے ہے یہی تھا پیڑ کٹنے کا سبب کیاکہ وہ اتنا گھنیرا کس لیے ہے بھنور میں آ گیا میرا سفینہسمندر شور تیرا کس لیے ہے اگر یہ شہر ہے شہرِ اماں توچھپا ہر سو لٹیرا کس لیے ہے میں ہاتھوں پرلیےسورج کھڑاہوںمرےگھر میں اندھیراکس

یہ ویراں شہر میرا کس لیے ہے Read More »

کی چھاؤں وہ پروائی کہیں سے لادو

نیم کی چھاؤں وہ پروائی کہیں سے لادومیری بستی میری انگنائی کہیں سے لادو صبحپُر نورحسیں شام نہ وہ بزم طربمجھکو میری شب_تنہائی کہیں سے لادو مجھ کو احساس دلائے جو مرے ہونے کاایک خاموش تماشائی کہیں سے لادو غم کی حدت سے دہکتا ہےمراسارا وجودآج اک دست_ مسیحائی کہیں سے لادو اب گراں بار

کی چھاؤں وہ پروائی کہیں سے لادو Read More »

تیری آنکھوں سے آ شنائى کی

تیری آنکھوں سے آ شنائى کیدل نے پائى سزا جدائى کى بس ترا نام آ گیا لب پربات نکلی تھی بیوفائى کى دو دنوں میں گنوائى بیٹوں نےباپ نے عمر بھر کمائى کى اک طوائف کے نرم بستر پرلاش رکھی تھی پارسائى کى اے اسيرانِ چشم شام بخیرلو گھڑی آ گئى رہائى کى ہم نےہونٹوں

تیری آنکھوں سے آ شنائى کی Read More »

زندگی میں جیت کر یا ھار کر

زندگی میں جیت کر یا ھار کرہو سکے تو سایہء دیوار کر آ گیا ہے وقت کرنے احتساباس لیےخود کو بھی اب تیار کر کیوں تعاقب میں لگا رہتا ہےروز؟سامنے آ سامنے سے وار کر پھر مرے کردار پر انگلی اٹھاپہلے خود کو صاحبِ کردار کر دیر تک روتا رہا وہ ایک شخصاپنےہی ہاتھوں سےمجھکومارکر

زندگی میں جیت کر یا ھار کر Read More »