MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کو

ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کویہ زندگی ہے سمجھ میں نہ آئے گی تم کو بساطِ کرب پہ کیسے چراغ جلتے ہیںہوائے شام سے پوچھو بتائے گی تم کو حسد سےبچنا کہ اک آگ ہے بھری اس میںرہِ حیات میں پل پل جلائے گی تم کو جسے خیال میں لاتے ہوئے بھی

ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کو Read More »

تجھ کو پا لینے کے اسباب کہاں سے لاتا

تجھ کو پا لینے کے اسباب کہاں سے لاتانیند روٹھی تھی ترے خواب کہاں سے لاتا مل گیا ایک دیا اس کو غنیمت سمجھورات کالی تھی سو مہتاب کہاں سے لاتا چاہنے والا تجھے چاہ تو سکتا تھا مگرمیرے جیسا دلِ بیتاب کہاں سے لاتا ہو گئى خشک مری ذات کی ہر ایک ندیآنکھ کی

تجھ کو پا لینے کے اسباب کہاں سے لاتا Read More »

گرمیء التفات کاٹی ہے

گرمیء التفات کاٹی ہےجیتے مرتے حیات کاٹی ہے جاں بہ لب ہی رہے لبِ دریازیست مثلِ فرات کاٹی ہے جس نے بوئے قدم قدم پہ اشکاس نے راہ_ نجات کاٹی ہے اس نےپھررکھدیا ہےہاتھ پہ ہاتھاس نے پھر میری بات کاٹی ہے لوگ آنکھوں میں رات کاٹتے ہیںمیں نے دانتوں سے رات کاٹی ہے تب

گرمیء التفات کاٹی ہے Read More »

جل کے راکھ ہونے کی کوششیں نہیں ہوتیں

جل کے راکھ ہونے کی کوششیں نہیں ہوتیںدیرپا بہت دل کی خواہشیں نہیں ہوتیں خود بخود ہی کھلتے ہیں دل میں پھول خوشیوں کےدل کو شاد رکھنے کی کاوشیں نہیں ہوتیںحال اپنا آکے وہ خود ہمیں کو بتلائیںہم سے ان کی جاکے تو پرسشیں نہیں ہوتیں دوست بھی صفوں میں ہیں اور اپنے دشمن بھیکامیاب

جل کے راکھ ہونے کی کوششیں نہیں ہوتیں Read More »

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیںوہی جو جان سے پیارے ہیں رشتے مار دیتے ہیں کبھی برسوں گزرنے پر کہیں بھی کچھ نہیں ہوتاکبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمحے مار دیتے ہیں کبھی منزل پہ جانے کے نشاں تک بھی نہیں ملتےجو رستوں میں بھٹک جائیں تو رستے مار دیتے ہیں

رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں Read More »

رستے میں شام ہو گئی گھر جاؤں کیا کروں

رستے میں شام ہو گئی گھر جاؤں کیا کروںاک قرض ہے سفر میں یہ بھر جاؤں کیا کروں کچا مرا مکان تھا بارش میں بہہ گیاسیل رواں میں خود بھی اتر جاؤں کیا کروں واپس وہیں پہ رستہ مجھے لے کے آ گیامیں آگے چل پڑوں کہ ٹھہر جاؤں کیا کروں در تو کھلے ہوئے

رستے میں شام ہو گئی گھر جاؤں کیا کروں Read More »

رات دن سانحوں کی زد میں تھا

رات دن سانحوں کی زد میں تھاشہرسب حادثوں کی زد میں تھا منزلوں کا سراغ کیا پاتےکہ سفر راستوں کی زد میں تھا تھیں سیاست کی بھی عجب چالیںکھیل سب سازشوں کی زد میں تھا روح کے زخم ہی نہ تھے ناسورجسم بھی کرچیوں کی زد میں تھا عکس در عکس بٹ گیا تھا وجوداس

رات دن سانحوں کی زد میں تھا Read More »

بہت چاند سورج ستارے ہوئے

بہت چاند سورج ستارے ہوئےمگر ہم اندھیروں کے مارے ہوئے یہ چہرہ یہ گیسو چمکتے رہیںہمیشہ غموں سے سنوارے ہوئے یہ آنکھوں میں اترے ہوئے رتجگےتری قربتوں کے شمارے ہوئے تمنا کے ساحل پہ بکھرے گوہرتمھارے ہوئے نہ ہمارے ہوئے فقط دلبروں نے ہی سمجھاانہیںمحبت کے جو بھی اشارے ہوئے کبھی وہ دوبارہ بسیں گے

بہت چاند سورج ستارے ہوئے Read More »

یاد رکھنے کا بھی وعدہ ہو ضروری تو نہیں

یاد رکھنے کا بھی وعدہ ہو ضروری تو نہیںبھول جانے کا ارادہ ہو ضروری تو نہیں نام اچھا سا کوئی ہم نے رکھا ہے لکھ کردل کا کاغذ ابھی سادہ ہو ضروری تو نہیں اس تبسم کو مرے دکھ کی علامت نہ سمجھیہ کسی غم کا لبادہ ہو ضروری تو نہیں یوں ہی اک بار

یاد رکھنے کا بھی وعدہ ہو ضروری تو نہیں Read More »

محبت میں کمی سی رہ گئی ہے

محبت میں کمی سی رہ گئی ہےکہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہے نہ جانے کیوں ہمارے درمیاں ابفقط اک برہمی سی رہ گئی ہے عجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پرترے غم کی خوشی سی رہ گئی ہے سمندر کتنے آنکھوں میں اتارےتو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہے نہیں چڑھتا

محبت میں کمی سی رہ گئی ہے Read More »