ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کو
ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کویہ زندگی ہے سمجھ میں نہ آئے گی تم کو بساطِ کرب پہ کیسے چراغ جلتے ہیںہوائے شام سے پوچھو بتائے گی تم کو حسد سےبچنا کہ اک آگ ہے بھری اس میںرہِ حیات میں پل پل جلائے گی تم کو جسے خیال میں لاتے ہوئے بھی
ہنسائے گی تو کبھی خوں رلائے گی تم کو Read More »