MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یوں نہ گھیراؤ اور جلاؤ پر

یوں نہ گھیراؤ اور جلاؤ پر
آنکھ رکھو زمیں کے گھاؤ پر

اک نظر رختِ جاں پہ ہے میری
اک نظر وقت کے بہاٶ پر

کتنا انمول تھا ضمیر کہ اب
آ گیا کوڑیوں کے بھاؤ پر

اس نے آنکھوں میں آگ سُلگائی
ہم نے دل رکھ دیا الاؤ پر

کھیل سمجھا تھا عشق کو لیکن
زندگی لگ گئی ہے داؤ پر

خواب سر سے اتار پھینکے ہیں
بوجھ بڑھنے لگا تھا ناٶ پر

بات نکلی تھی حُسنِ ظن کی امین
آن ٹھہری وہ رکھ رکھاٶ پر

امین اڈیرائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم