وقتِ اُفتاد کیوں نہیں آئى
لب پہ فریاد کیوں نہیں آئى
میں ترےشہر سےبھی گزرا تھا
پھر تری یاد کیوں نہیں آئى
غير تو آۓ کاندھا دینے کو
اپنی اولاد کیوں نہیں آئى
میرے پر کاٹتے ہوۓ تجھ کو
موت صیّاد کیوں نہیں آئى
دشتِ مجنوں تھادل،کوئى لیلیٰ
کرنے آباد کیوں نہیں آئى
وہ توبیشک امین تھے،تجھ میں
خوۓ اجداد کیوں نہیں آئى
امین اڈیرائی