تیری آنکھوں سے آ شنائى کی
دل نے پائى سزا جدائى کى
بس ترا نام آ گیا لب پر
بات نکلی تھی بیوفائى کى
دو دنوں میں گنوائى بیٹوں نے
باپ نے عمر بھر کمائى کى
اک طوائف کے نرم بستر پر
لاش رکھی تھی پارسائى کى
اے اسيرانِ چشم شام بخیر
لو گھڑی آ گئى رہائى کى
ہم نےہونٹوں پہ رکھدیےتھےدُکھ
آپ سمجھے غزل سرائى کی
میرے اپنے لہو نے آج امین
میرے قاتل کی رہنمائى کی
امین اڈیرائی