MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جل کے راکھ ہونے کی کوششیں نہیں ہوتیں

جل کے راکھ ہونے کی کوششیں نہیں ہوتیں
دیرپا بہت دل کی خواہشیں نہیں ہوتیں

خود بخود ہی کھلتے ہیں دل میں پھول خوشیوں کے
دل کو شاد رکھنے کی کاوشیں نہیں ہوتیں
حال اپنا آکے وہ خود ہمیں کو بتلائیں
ہم سے ان کی جاکے تو پرسشیں نہیں ہوتیں

دوست بھی صفوں میں ہیں اور اپنے دشمن بھی
کامیاب پھر کیسے سازشیں نہیں ہوتیں

ایک جستجو دل کو مضطرب سی رکھتی ہے
بے سبب تو قسمت کی گردشیں نہیں ہوتیں

تخت و تاج مانگےسےکب کسی کو ملتا ہے
دل کی بادشاہی میں بخششیں نہیں ہوتیں

معجزوں پہ زندہ ہیں اور دعائیں کرتے ہیں
ہجرتوں کے موسم میں بارشیں نہیں ہوتیں

نزہت عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم