MOJ E SUKHAN

یاد رکھنے کا بھی وعدہ ہو ضروری تو نہیں

یاد رکھنے کا بھی وعدہ ہو ضروری تو نہیں
بھول جانے کا ارادہ ہو ضروری تو نہیں

نام اچھا سا کوئی ہم نے رکھا ہے لکھ کر
دل کا کاغذ ابھی سادہ ہو ضروری تو نہیں

اس تبسم کو مرے دکھ کی علامت نہ سمجھ
یہ کسی غم کا لبادہ ہو ضروری تو نہیں

یوں ہی اک بار کبھی ایک نظر ڈالی تھی
اس کو احساس زیادہ ہو ضروری تو نہیں

ہاں حساب غم دوراں تو بہت مشکل ہے
اور پھر اس کا اعادہ ہو ضروری تو نہیں

بیش قیمت ہے بہت سرخیٔ خون دل بھی
روبرو جام میں بادہ ہو ضروری تو نہیں

ساری دنیا کے خزانے بھی میسر ہوں جسے
ہاتھ بھی اس کا کشادہ ہو ضروری تو نہیں

نزہت عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم