MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بہت چاند سورج ستارے ہوئے

بہت چاند سورج ستارے ہوئے
مگر ہم اندھیروں کے مارے ہوئے

یہ چہرہ یہ گیسو چمکتے رہیں
ہمیشہ غموں سے سنوارے ہوئے

یہ آنکھوں میں اترے ہوئے رتجگے
تری قربتوں کے شمارے ہوئے

تمنا کے ساحل پہ بکھرے گوہر
تمھارے ہوئے نہ ہمارے ہوئے

فقط دلبروں نے ہی سمجھاانہیں
محبت کے جو بھی اشارے ہوئے

کبھی وہ دوبارہ بسیں گے کہیں
دلوں سے نظر سے اتارے ہوئے

بدلتا نہیں ہے نصابِ وفا
خسارے ہوئے تھے خسارے ہوئے

نہ جنت نہ دوزخ کہاں جائیں ہم
عذابِ جہاں سے گزارے ہوئے

نزہت عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم