روگ بڑھتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
لوگ اگلے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
بام و در کی آنکھ میں ہے خوف کس آسیب کا
گھر پگھلتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
رت جگے بستر سے لپٹے وصل کی خواہش لیے
سپنے دیکھے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
دھوپ کے اندر چھپی ہیں کیسی کیسی سوزشیں
سائے سمٹے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
راستوں کی دھول سے اب زخم تیرے ہجر کے
خود ہی بھرتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
وقت کے دامن میں کس نے رکھ دیا حیرت کدہ
غم بہلتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
آستینوں سے نکل کر دوستی کی آڑ میں
آپ ڈستے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
پیاس کے مارے ہوئے ہیں لوگ عابد اور بس
آگ پیتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
حنیف عابد