MOJ E SUKHAN

روگ بڑھتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں

روگ بڑھتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں
لوگ اگلے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں


بام و در کی آنکھ میں ہے خوف کس آسیب کا
گھر پگھلتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں


رت جگے بستر سے لپٹے وصل کی خواہش لیے
سپنے دیکھے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں


دھوپ کے اندر چھپی ہیں کیسی کیسی سوزشیں
سائے سمٹے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں


راستوں کی دھول سے اب زخم تیرے ہجر کے
خود ہی بھرتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں


وقت کے دامن میں کس نے رکھ دیا حیرت کدہ
غم بہلتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں


آستینوں سے نکل کر دوستی کی آڑ میں
آپ ڈستے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں


پیاس کے مارے ہوئے ہیں لوگ عابد اور بس
آگ پیتے جا رہے ہیں اور میں حیران ہوں

حنیف عابد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم