ضرورت جب پڑی سایہ نہیں تھا
نہیں تو پاس میرے کیا نہیں تھا
مجھے ہی چھوڑ کے جانا تھا گھر کو
مگر یہ فیصلہ میرا نہیں تھا
مقدر میں جو تھا سب مل گیا تھا
مگر وہ شخص بس میرا نییں تھا
رہا غیروں کی مانند اپنے گھر میں
وہ گھر میں تھا مگر گھر کا نہیں تھا
زمیں کو خون سے سینچا تھا میں نے
زمیں سے میرا ہی رشتہ نہیں تھا
جو گزرے گا وہ کل ایسا نہ ہو گا
جو گزرا ہے وہ کل ایسا نہیں تھا
مجھے تو ساتھ دینا تھا کسی کا
وگرنہ یہ مرا رستہ نہیں تھا
مرا اب تذکرہ کرتا ہے سب سے
مجھے کل جس نے پہچانا نہیں تھا
بچھڑ کر اس کو اندازہ ہؤا ہے
سعید اپنا تھا بیگانہ نہیں تھا
احمد سعید خان