MOJ E SUKHAN

ضرورت جب پڑی سایہ نہیں تھا

ضرورت جب پڑی سایہ نہیں تھا
نہیں تو پاس میرے کیا نہیں تھا


مجھے ہی چھوڑ کے جانا تھا گھر کو
مگر یہ فیصلہ میرا نہیں تھا


مقدر میں جو تھا سب مل گیا تھا
مگر وہ شخص بس میرا نییں تھا


رہا غیروں کی مانند اپنے گھر میں
وہ گھر میں تھا مگر گھر کا نہیں تھا


زمیں کو خون سے سینچا تھا میں نے
زمیں سے میرا ہی رشتہ نہیں تھا


جو گزرے گا وہ کل ایسا نہ ہو گا
جو گزرا ہے وہ کل ایسا نہیں تھا


مجھے تو ساتھ دینا تھا کسی کا
وگرنہ یہ مرا رستہ نہیں تھا


مرا اب تذکرہ کرتا ہے سب سے
مجھے کل جس نے پہچانا نہیں تھا

بچھڑ کر اس کو اندازہ ہؤا ہے
سعید اپنا تھا بیگانہ نہیں تھا

احمد سعید خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم