MOJ E SUKHAN

سر پھرے لمحے رسیلے ہو گئے

سر پھرے لمحے رسیلے ہو گئے
جاگتی آنکھوں میں سپنے بو گئے


دھوپ کو ملتا کہاں میرا پتہ
شہر کی سڑکوں پہ سائے کھو گئے


گمشدہ جذبات ہجرِ یار کے
تتلیوں کا لمس پا کےسو گئے


ختم سورج کا تماشا کب ہوا
کون سے بادل دریچے دھو گئے


جگنوئوں کی روشنی کو کیا ہوا
ہنستے گاتے پیڑ کیسے سو گئے


وقت کی رفتار اُس دم رک گئی
یار کی بانہوں میں جب ہم کھو گئے


جل اٹھا عابد ہوا کے شہر میں
ذات کے بازار روشن ہو گئے

حنیف عابد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم