MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی

غزل

پلکیں اٹھیں نگاہ ملی بات ہو گئی
دونوں طرف سے پرسش حالات ہو گئی

ہلکی سی روشنی بھی نہیں دور دور تک
فرقت کی رات کتنی بڑی رات ہو گئی

راہ جنوں میں بیکس و تنہا چلا تھا میں
ہم راہ دل کے گردش حالات ہو گئی

یہ حسن اتفاق کہ تم آ گئے ادھر
خوش قسمتی کہ تم سے ملاقات ہو گئی

یہ وقت آ گیا ہے مری بے کسی کی خیر
ہر اک سے پوچھتا ہوں کہاں رات ہو گئی

اے چشم انتظار یہ کیا اعتبار ہے
وہ آ چکے اور ان سے ملاقات ہو گئی

اے شوقؔ اس کو حاصل عمر رواں سمجھ
وہ زندگی جو نذر خرابات ہو گئی

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم