MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

موج ہوائے شوق اسے پائمال کر

غزل

موج ہوائے شوق اسے پائمال کر
رکھیں گے خاک دل کو کہاں تک سنبھال کر

افسردہ دل نہ ہو یہ سفر کی تکان ہے
دو چار گھونٹ پی کے طبیعت بحال کر

یہ ابر یہ بہار یہ طوفان رنگ و بو
اے دوست میری تشنہ لبی کا خیال کر

یہ منزل شباب ہے پر پیچ و پر خطر
اے پیکر جمال ذرا دیکھ بھال کر

ہر اہل دل کی میری طرف اٹھ گئی نظر
گزرے وہ یوں قریب سے دامن سنبھال کر

اے شوقؔ میں نے نظم و غزل جب کبھی کہی
کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجہ نکال کر

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم