MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے

غزل

یہ کیا توہین مے خانہ نہیں ہے
صراحی ہے تو پیمانہ نہیں ہے

در دولت کے چکر آپ کاٹیں
مری فطرت غلامانہ نہیں ہے

تعجب ہے کہ اہل شہر نے بھی
ابھی تک مجھ کو پہچانا نہیں ہے

چھلک جاتی ہے ان کا نام سن کر
اگرچہ آنکھ پیمانہ نہیں ہے

میں تشنہ لب بھی اٹھ سکتا ہوں ساقی
مگر یہ شان مے خانہ نہیں ہے

وہ دل بھی دیکھنے کی چیز ہوگا
اجڑ کر بھی جو ویرانہ نہیں ہے

مرا مسلک فقیرانہ ہے لیکن
مری حالت فقیرانہ نہیں ہے

کوئی کیوں قدر اہل دل کرے گا
کوئی مجھ سا تو دیوانہ نہیں ہے

بہک جاتے ہیں وہ اک گھونٹ پی کر
یہ کوئی وضع رندانہ نہیں ہے

جناب شوقؔ بے حد مضطرب ہیں
مگر نزدیک مے خانہ نہیں ہے

شوق ماہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم