MOJ E SUKHAN

کس قدر اضطراب ہے یارو

غزل

کس قدر اضطراب ہے یارو
زندگی اک عذاب ہے یارو

دل مرا صاف آئنہ کی طرح
ایک سادہ کتاب ہے یارو

میں ہوں ناکام عشق میں لیکن
کیا کوئی کامیاب ہے یارو

جب سے دیکھا ہے اس نے ہنس کے مجھے
دل کی حالت خراب ہے یارو

غم جاناں تو راحت دل ہے
فکر دنیا عذاب ہے یارو

اس نے شاید کیا ہے یاد مجھے
دل میں کیوں اضطراب ہے یارو

پوچھتے کیا ہو اس کا نقش و نگار
آپ اپنا جواب ہے یارو

سن سکوں گا نہ داستان عشق
اب کہاں مجھ میں تاب ہے یارو

کیا کرے گا کوئی خراب اسے
جو ازل سے خراب ہے یارو

کچھ بتاؤ کہ آج دانشؔ پر
کیوں ستم بے حساب ہے یارو

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم