MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتی

غزل

دعا ہماری کبھی با اثر نہیں ہوتی
تمہاری ہم پہ کرم کی نظر نہیں ہوتی

میں کیا بتاؤں ترے غم میں کیا گزرتی ہے
وہ کون لمحہ ہے جب آنکھ تر نہیں ہوتی

علاج درد محبت جو ہو تو کیوں کر ہو
الٰہی کوئی دوا کارگر نہیں ہوتی

ترے خیال میں رہتا ہوں میں جو گم اے دوست
مجھے زمانے کی کچھ بھی خبر نہیں ہوتی

اجالا کیسے نظر آئے گا کہیں تم کو
شب فراق کی دانشؔ سحر نہیں ہوتی

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم