MOJ E SUKHAN

یہ سانس بھرتی ہوئی زندگی کا دکھ ہے مجھے

غزل

یہ سانس بھرتی ہوئی زندگی کا دکھ ہے مجھے
تمہارا اس کا اور اس کا سبھی کا دکھ ہے مجھے

سمٹ گئیں کسی جنگل کی وحشتیں مجھ میں
سو گھر میں ہوتے ہوئے بے گھری کا دکھ ہے مجھے

بہت زیادہ اندھیروں سے بھی شکایت تھی
اور ان دنوں تو بہت روشنی کا دکھ ہے مجھے

میں رو پڑوں گا بہت بھینچ کے گلے نہ لگا
میں پہلے جیسا نہیں ہوں کسی کا دکھ ہے مجھے

یہ کوئی شعر نہیں ہیں یہ زخم ہیں میرے
طبیب بولتا ہے شاعری کا دکھ ہے مجھے

بچھڑ کے تجھ سے میں انسانیت سے گر گیا ہوں
تو خوش ہوا ہے تو تیری خوشی کا دکھ ہے مجھے

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم