MOJ E SUKHAN

اکیلا میں ہی نہیں ہجر کی سواری میں

غزل

اکیلا میں ہی نہیں ہجر کی سواری میں
کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں شب گزاری میں

ندی سے کہہ دو ادھر تشنگی بلا کی ہے
یہ سوکھ جائے گی صحرا کی آبیاری میں

سپاہ شام نگاہوں کو مت اٹھا لینا
علی کا شیر ہے خیموں کی پاسداری میں

کٹے درختوں کا میں احتجاج دیکھتا ہوں
سفید خون لگا ہے تمہاری آری میں

نکل کے آ جا پس پردۂ تصور سے
یہ دو چراغ بھی ہیں سوز انتظاری میں

کئی تو مٹ گئے کتنے کھنڈر بنے ہوئے ہیں
مکان اپنے مکینوں کی سوگواری میں

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم