غزل
اکیلا میں ہی نہیں ہجر کی سواری میں
کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں شب گزاری میں
ندی سے کہہ دو ادھر تشنگی بلا کی ہے
یہ سوکھ جائے گی صحرا کی آبیاری میں
سپاہ شام نگاہوں کو مت اٹھا لینا
علی کا شیر ہے خیموں کی پاسداری میں
کٹے درختوں کا میں احتجاج دیکھتا ہوں
سفید خون لگا ہے تمہاری آری میں
نکل کے آ جا پس پردۂ تصور سے
یہ دو چراغ بھی ہیں سوز انتظاری میں
کئی تو مٹ گئے کتنے کھنڈر بنے ہوئے ہیں
مکان اپنے مکینوں کی سوگواری میں
قمر عباس قمر