MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب دھوپ کھلی خود کو عجب راہ میں پایا

غزل

جب دھوپ کھلی خود کو عجب راہ میں پایا
آگے مری پرچھائیں تھی پیچھے مرا سایا

یوں رات گئے کس کو صدا دیتے ہیں اکثر
وہ کون ہمارا تھا جو واپس نہیں آیا

جب آخری موقع تھا کہ ساحل پہ اترتے
دریا نے ہمیں اپنی طرف ایسے بلایا

سب خوش ہیں تو لگتا ہے خوشی عام سی شے ہے
اچھا ہوا تو نے مجھے غم خوار بنایا

پہلے تو سمجھ میں بھی نہیں آیا کہ کیا ہے
جب اس کو بتایا تو مجھے اس نے بتایا

ہر درد کی اک حد ہے اور اس حد سے زیادہ
یہ کیا ہے جسے سہہ نہیں پاتا ہوں خدایا

وہ خواب کے اندر کا اندھیرا تھا سو اس نے
سونے نہ دیا مجھ کو ہر اک رات جگایا

قمر عباس قمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم