حالیہ پوسٹ
بچوں کی نظمیں
ٹوٹ بٹوٹ نے کر لی شادی
صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم کی بچوں کے لیے بہت پیاری نظم کچھ ہمجولی کچھ ہمسائےکچھ اپنے کچھ لوگ پرائےٹوٹ بٹوٹ کو ملنے آئےٹوٹ بٹوٹ کی بولی دادیٹوٹ بٹوٹ نے کرلی شادی اب نہ وہ شوخی اب نہ وہ شیخیاب نہ وہ اُس کی دھینگا مشتیختم ہوئی سب ہا ہا ہی
رس بھرا مالٹا ہے ٹوٹ بٹوٹ
صوفی غلام مصطفی تبسم کی بچوں کے لیے بہت پیاری نظم گول اور سرخ سا ہے ٹوٹ بٹوٹرس بھرا مالٹا ہے ٹوٹ بٹوٹ جب وہ پیدا ہوا تو ٹوٹ ہی تھادوسرے دن بنا ہے ٹوٹ بٹوٹ اصل میں وہ تو ایک لڑکی تھییوں ہی لڑکا بنا ہے ٹوٹ بٹوٹ صبح
ماں کا خواب
علامہ اقبال کی بچوں کے لیے بہت پیاری نظم میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواببڑھا اور جس سے مرا اضطرابیہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیںاندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیںلرزتا تھا ڈر سے مرا بال بالقدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محالجو کچھ حوصلہ پا
ایک مکڑا اور مکھی
علامہ اقبال کی بچوں کے لیے بہت مفید نظم ایک مکڑا اور مکھی (ماخوذ) بچوں کے لیے اک دن کسی مکھی سےیہ کہنے لگا مکڑااس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارالیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمتبھُولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھاغیروں سے نہ ملیے
حیواں ہے نہ وہ انساں جن ہے نہ وہ پری ہے
حیواں ہے نہ وہ انساں جن ہے نہ وہ پری ہےسینہ میں اس کے ہر دم اک آگ سی بھری ہے کھا کے آگ پانی چنگھاڑ مارتی ہےسر سے دھوئیں اڑا کر غصہ اتارتی ہے وہ گھورتی گرجتی بھرتی ہے اک سپاٹاہفتوں کی منزلوں کو گھنٹوں میں اس نے کاٹا
ایک بچہ اور جگنو
(اسماعیل میرٹھی) سناؤں تمہیں بات اک رات کیکہ وہ رات اندھیری تھی برسات کی چمکنے سے جگنو کے تھا ایک سماںہوا پر اُڑیں جیسے چنگاریاں پڑی ایک بچے کی ان پر نظرپکڑ ہی لیا ایک کو دوڑ کر چمک دار کیڑا جو بھایا اسےتو ٹوپی میں جھٹ پٹ چھپایا اُسے
کوئی پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہری سے
کوئی پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہری سےتجھے ہو شرم تو پانی ميں جا کے ڈوب مرے ذرا سی چيز ہے ، اس پر غرور ، کيا کہنايہ عقل اور يہ سمجھ ، يہ شعور ، کيا کہنا ! خدا کی شان ہے ناچيز چيز بن بيٹھيںجو بے شعور ہوں
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹاہے چاروں طرف چھانے والی گھٹاگھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئیہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئیگھٹا آن کر مینہ جو برسا گئیتو بے جان مٹی میں جان آ گئیزمیں سبزے سے لہلہانے لگیکسانوں کی محنت ٹھکانے لگیجڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکلعجب بیل پتے عجب
میری سائیکل
چھوٹا سا میں چھوٹا سا دِلچھوٹی سی میری سائیکلدو سال پہلے میں نے جبپہلی جماعت پاس کییہ سائیکل انعام میںمجھ کو مِرے ابو نے دیاس سائیکل پر بیٹھ کرخود مدرسے جاتا ہوں میںہر روز امی کے لیےسَودا بھی لے آتا ہوںہو کر سوار اس پر کبھیمیں گھومتا ہوں لان میںدکھلاتا
صبح ہوا جب نور کا تڑکا
صبح ہوا جب نور کا تڑکاسو کر اٹھا اچھا لڑکا غسل کیا،پھر ناشتا کھایابستہ اپنی بغل دبایا پھر مکتب کا رستہ پکڑاراہ میں اس کو ملا اک مرغا مرغا بولا”آؤ کھیلیں”شور مچائیں اور ڈنٹر پیلیں لڑکا بولا”او بھائی مرغے!”کھیلنے کا یہ وقت نہیں ہے میں اب پڑھنے جاتا ہوںمرغا بولا”ککڑوں
گُڑیا
کبھی غُل مچاتی ہے گُڑیاہر اِک طرح سے دل لبھاتی ہے گُڑیا نہ پوچھو مزاج اس کا نازک ہے کتناذرا کچھ کہو ، منہ بناتی ہے گُڑیا وہ روئے تو میں چُپ کراتی ہوں اس کومیں روؤں تو مجھ کو ہنساتی ہے گُڑیا جو گھر میں کوئی غیر آئے تو
آیا بسنت میلا
آیا بسنت میلامنّا پھرے اکیلا کچھ لوگ آرہے ہیںکچھ لوگ جا رہے ہیںکچھ دیکھتے ہیں میلامنّا پھرے اکیلا لوگوں کے پاس موٹرکرتی پھرے ہے ٹرٹرمنّے کے پاس ٹھیلامنّا پھرے اکیلا ابّا نے دی اِکنّیامّی نے دی اَدھّنیپیسا ملے نہ دھیلامنّا پھرے اکیلا کوئی مٹھائی کھائےکوئی چنے چبائےکھاتا ہے کوئی کیلامنّا