حالیہ پوسٹ
بچوں کی نظمیں
کرو شوق سے بچو ہر دن تلاوت
کرو شوق سے بچو ہر دن تلاوتہے منزل اسی میں نبی کی بشارت ہر اک لفظ قرآں کا ہے ایک موتیسکھاتا ہے کرنا نبی کی اطاعت سمجھ کر پڑھو کیا کہا اس میں رب نےعمل اس پہ کرنا ہے افضل عبادت خدا کے کہے پر عمل کر لیا توترقی کرو
سچ کہوں میں یہ اک عبادت ہے
سچ کہوں میں یہ اک عبادت ہےقیمتی یہ حسین عادت ہے جو بڑوں کو سلام کرتے ہیںتو بڑے ان سے پیار کرتے ہیں کامیابی کا یہ ہی نسخہ ہےیہ کھرا ہے بہت ہی سچا ہے اپنے سب دوستوں میں کردو عامجس کو دیکھو کرو ادب سے سلام خوب ہوگا تمہارا
اللہ میاں نے سب کو بنایا
اللہ میاں نے سب کو بنایااس دنیا میں ہم کو بسایا پھول اور پودے چاند اور تارےپھیلے ہوئے ہیں جتنے نظارے دیتے ہیں سب ایک گواہیکون و مکاں میں اس کی خدائی وہ ہی رازق وہ ہی آقاسب کا مالک سب کا داتا اس کا شکر بجا لانے کواس کا
پیدا کیا ہے جس نے مالک ہے وہ ہمارا
پیدا کیا ہے جس نے مالک ہے وہ ہمارارازق ہے وہ ہمارا خالق ہے وہ ہمارا مچھلی کا رزق اس نے پانی میں رکھ دیا ہےپتھر کے نیچے کیڑا بھی پیٹ بھر رہا ہے انسان اس جہاں کا تحفہ حسین تر ہےمخلوقِ کل جہاں میں تب ہی تو معتبر ہے
میری عنایا
سچی ایک کہانی ہے وہ پریوں کی رانی ہے گورےگورےگال ہیں اُسکے کالے لمبے بال ہیں اُسکے آئی اُڑن کھٹولے میں وہ پُھولوں کےاِک ڈولے میں وہ نام عنایا ہے جی اس کااس کو ہے رونے کا چسکا پہنی ہے پوشاک گلابی رنگ بھی اُس کا ہے شاتابی جب سے
میرا بھائی
میرا ہے اِک چھوٹا بھائی کرتا ہے وہ مجھ سے لڑائی میری کوئی بات نہ مانے کرتا ہے وہ بڑے بہانے پا پا آفس جب جاتے ہیںاس کے دوست چلے آتے ہیں کرتے ہیں وہ دھوم دھڑکا شور مچاتا ہے ہر لڑکا کرتے ہیں وہ خوب ہنگامہ ڈانٹتی ہیں پھر
اکڑ بکڑ بمبے بو – Akkar Bakkar Bambay Bow
Akkar Bakkar Bambay Bow , Urdu Poetry stands as the ultimate means to convey emotions to all. Explore an incredible assortment of Urdu poetry, shayari, and ghazals crafted by renowned poets. Uncover the masterful works of acclaimed Urdu poets from Pakistan and India, such as Mirza Ghalib, Allama Iqbal, Jaun
ایک گائے اور بکری
بچوں کے لیے علامہ اقبال کی ایک نظم اک چراگاہ ہری بھری تھی کہیں تھی سراپا بہار جس کی زمیں کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں ہرطرف صاف ندیاں تھیں رواں تھے اناروں کے بے شمار درختاور پیپل کے سایہ دار درختٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیںطائروں کی صدائیں آتی
ٹوٹ بٹوٹ کے مرغے
صوفی غلام مصطفی تبسم کی بچوں کے لیے نظم ٹوٹ بٹوٹ کے دو مُرغے تھے دونوں تھے ہُشیار اِک مُرغے کا نام تھا گیٹو اِک کا نام گِٹار اِک مُرغے کی دُم تھی کالی اِک مُرغے کی لال اِک مُرغے کی چونچ نرالیاِک مُرغے کی چال اِک پہنے پتلُون اور
بہادر کسان
حفیظ جالندھری کی بچوں کے لیے ایک خوبصورت نظم سویرے اندھیرے اندھیرے اٹھالیے بیل کھیتوں کی جانب چلاہے سارا زمانہ ابھی سو رہامگر اس کا یہ وقت ہے کام کااسے ہر گھڑی کام ہی کا دھیانبڑا محنتی ہے بہادر کسان کبھی بیل کا دل بڑھاتا ہُواکبھی موڑتا اور ہنکاتا ہُواکبھی
ایک پودا اور گھاس
اسماعیل میرٹھی کی بچوں کے لیے ایک نظم اتفاقاً ایک پودا اور گھاسباغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاسگھاس کہتی ہے اسے ، میرے رفیق!کیا انوکھا ہے اس جہاں کا طریقہے ہماری اور تمہاری ایک ذاتایک قدرت سے ہے دونوں کی حیاتمٹی اور پانی ، ہوا اور روشنیواسطے دونوں کے
ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار
صوفی غلام مصطفیٰ تبسّم کی بچوں کے لیے بہت پیاری نظم اِس موٹر کی شان نرالی دو سیٹوں ، دو پہیوں والی تین انجن اور ہارن چار ٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار ساتھ ہوا کے اڑتی جائےدائیں بائیں مڑتی جائےبڑی ہی سیانی بڑی ہُشیارٹوٹ بٹوٹ کی موٹر کار اِس موٹر