حالیہ پوسٹ
بچوں کی نظمیں
چڑیا چڑیا سن لے تو
چڑیا چڑیا سن لے تو دانا دنکا چن لے تو تیرے بچے بھوکے ہیں چوں چوں چوں چوں کرتے ہیں تیری راہیں تکتے ہیں مجھ کو پیارے لگتے ہیں تیرا گانا سنتے ہیںدنگا مستی کرتے ہیں چڑیا چڑیا آجا توان کو دانا دے جا تو نسیم شیخ
اک پرندہ یہ کہنے کو کالا سا ہے
اک پرندہ یہ کہنے کو کالا سا ہے نام کوئل ہے اس کا سریلی ہے یہ گانا گاتی ہے بیٹھے درختوں پہ جب آنکھیں اس کی مٹکتی ہیں کوکے وہ جب پیڑ پودوں پہ اس کا بنا گھونسلہ رات ڈھلتے ہی اس کا چلے قافلہدانہ دنکا یہ کھاتی ہے آرام
بھاگ کر مکتب سے جو بچپن گزاریں کھیل میں
بھاگ کر مکتب سے جو بچپن گزاریں کھیل میں وہ بڑے ہو کر پہنچ جاتے ہیں اکثر جیل میں ان سنی کرتے ہیں جو باتیں بزرگوں کی یہاں ایسے بچے بن کو رہ جاتے ہیں عبرت کا نشاں بات کاٹیں جو بڑوں کی خود کو سمجھیں جو بڑازندگی دیتی ہے
خواب نگر اک بستی ہے
خواب نگر اک بستی ہےڈولی اس میں ہی رہتی ہے پریاں اس کی ساتھی ہیں خواب نگر میں آتی ہیں اونچے اونچے پیڑوں پر جھولا وہ لٹکاتی ہیں جھولا جھول کے گاتی ہیںہم سب کی وہ ساتھی ہیں سر پر مشکل آجائے تومل کر اس کو حل کر نا ہم
چیتا ہاتھی گینڈا بندر
چیتا ہاتھی گینڈا بندر رہتے ہیں جنگل کے اندر بھالو بھینسا سانپ اور گیدڑ شیر کو مانا سب نے لیڈر جنگل میں ہے ندیا بہتی مچھلی اس کے اندر رہتی بھالو سے تھی ڈرتی مچھلی بھالو کھاتا پکڑ کے مچھلی چڑ یا مینا مور و طوطاان کا ہے پکا سمجھوتا
میری گڑیا پیاری پیاری
میری گڑیا پیاری پیاری نیلی پیلی آنکھوں والی مجھ سے باتیں کرتی ہے وہ ہنستی بھی ہے روتی بھی ہے مجھ کو خوب ستاتی ہے وہ جینز پہن کر آتی ہے وہ ساڑھی سے گھبراتی ہے وہاکثر رات میں تاروں سے وہمیری باتیں کرتی ہے وہصبح سویرے کانوں میں پھرمیرے
مجھ کو بچہ نہ سمجھو مرے دشمنوں
مجھ کو بچہ نہ سمجھو مرے دشمنوں میرے سینے میں جذبہ ہے ایمان کا میرے پرچم پہ ہے اک نشاں چاند کا میرے سینے میں ہے عکس قرآن کا مجھ کو معلوم ہے اٹھ رہا ہے دھواں ہیں ہنر مند میرے وطن کے جواں ہے مرا ایک ہی سن لو
میری بلی پیاری سی ہے
میری بلی پیاری سی ہے موٹی تازی بھولی سی ہے دودھ جلیبی یہ کھاتی ہے بھاگ کے چھت پر چڑھ جاتی ہے سیر کو باہر بھی جاتی ہے ہاتھ کسی کے کب آتی ہے پیار کرو تو پاس آتی ہےسب کو بلی یہ بھاتی ہے غصے میں جب آ جاتی
میرے مٹھو میاں میرے مٹھو میاں
اب مٹھو میاں میرے مٹھو میاں اب اداسی کا چہرے پہ کیوں ہے نشاں اب کرو ٹیں ٹیں نقلیں ہماری اتارو پروں کو ہوا میں ذرا پھڑ پھڑا دو خفا کس لیے ہو ذرا سا بتا دو ذرا چونچ اپنی سنو تم ہلا دو خفا ہونا ایسے نہیں ہوتا اچھایوں
جنگل میں اک شور مچا تھا
جنگل میں اک شور مچا تھا سالگرہ کا جشن ہوا تھا مور خوشی سے جھوم رہا تھا کیک وہ سب میں بانٹ رہا تھا سالگرہ کا دن تھا اس کا جنگل میں منگل کا سماں تھا ہاتھی بندر شیر و چیتالے کر آئے ساتھ میں تحفہ سب نے مل کر
پیارے پیارے بچو دیکھو
پیارے پیارے بچو دیکھوہنستے کھیلتے پڑھنا سیکھو علم سے اپنے من کو بھر دوملک کو اپنے جگ مگ کر دو سچ کی لاٹھی تھام کے دوڑوجھوٹ سے منہ کو اپنے موڑو بیچ بزرگوں کے مت بولوجتنا پوچھیں اتنا بولو لکھتے لکھتے کاپی بھر دوامی ابو کو خوش کردو نسیم شیخ
ماموں لائے پتنگ اور ڈوری
ماموں لائے پتنگ اور ڈوریگڑیا بھاگ کے چھت پر دوڑی نیلی پیلی پتنگ ہماریاک دم اس میں ہم نے جوڑی بھیا نے پھر چرخی پکڑیگڑیا نے دی اس کو چھٹی ماموں نے پھر ٹھمکی ماریاڑ گئی اونچی پتنگ ہماری دور سے آگئی اس کی جوڑیدیکھ رہی تھی اک اور ٹولی