MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہے

غزل

دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہے
کہ آنکھ آنکھ نے آنسو کشید رکھا ہے

قتال ظلم و تشدد فساد آگ دھواں
ہمارے شہر میں اب کیا مزید رکھا ہے

نہ جس سے حل مسائل کی راہ نکلے کوئی
اسی کا نام تو گفت و شنید رکھا ہے

اڑی ہے جب سے پرندوں کی واپسی کی خبر
ہر ایک شخص نے پنجرہ خرید رکھا ہے

بتا رہے ہیں تصورؔ یہ شہر کے حالات
کسی کی پشت پہ دست یزید رکھا ہے

یعقوب تصور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم